بنگلورو،23؍دسمبر(ایس او نیوز)جے ڈی ایس ،کانگریس پر مشتمل مخلو ط حکومت کی کابینہ میں توسیع اور رد وبدل کے بعد وزارت ملنے سے محروم اراکین اسمبلی کی ناراضی بڑ ھ گئی ہے ،اوران کے حامیوں نے احتجاجات کرنا شروع کردیا ہے ۔
بنگلور بی ٹی ایم لے آؤٹ کے رکن اسمبلی رام لنگاریڈی کو کابینہ میں شامل نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کے حمایتی نے کے پی سی سی دفتر کے روبرو احتجاجی دھرنا دیا اورنعرہ بازی کی ۔ہڑتال کے ذریعہ حامیوں نے ہائی کمان کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی ۔
احتجاجیوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ رام لنگا ریڈی کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا تو بنگلور بند کی کال دی جاسکتی ہے۔ سابق مےئر منجوناتھ ریڈی کی قیادت میں بی بی ایم پی کے چند اراکین اور درجنوں کارکنوں نے احتجاجی دھرنے میں شامل ہوتے ہوئے نعرہ بازی کی ۔ احتجاجیوں نے کہا کہ رام لنگا ریڈی کے ساتھ بہت بڑا دھوکا ہوا ہے ۔ رکن اسمبلی،وزیر اور کے پی سی سی کے مختلف عہدوں میں رہتے ہوئے انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے ۔
بنگلور میں نہ صرف پارٹی کی تنظیم کا ری کی بلکہ ان کی کوششوں سے بنگلورمیں 15سے زائداراکین اسمبلی کو جتانے میں رام لنگا ریڈی نے اہم کردار ادا کیا ۔ ایسے سینئر لیڈر کو کابینہ میں شامل نہ کیا جانا حیرانی کا باعث ہے۔ ایسا کرنا کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے۔
منجوناتھ ریڈی نے کہا کہ بی بی ایم پی میں پارٹی کو بر سراقتدار لانے میں رام لنگا ریڈی کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ بڑی خوبیوں والے سینئر لیڈر کو کابینہ کی توسیع کے وقت نظر انداز کرنااچھی بات نہیں ہے۔ہم آج شام تک ہائی کمان کو مہلت دیتے ہیں۔ اس دوران ٹھیک اور التفات پرمبنی فیصلہ نہیں کیا گیا تو کل بنگلور بند کی کال دی جائے گی ۔ ہائی کمان کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد فیصلہ کرے ۔ ورنہ بی بی ایم پی کے اسٹانڈنگ کمیٹی کے صدر کے انتخاب کے موقع پراس کا زبردست اثر پڑسکتا ہے۔